ایک صدی کا قصہ | نعمت امینوف | انصارالدین ابراہمیوف Abid Mir

Regular price $ 200.00
Tax included. Shipping calculated at checkout.
Description

ایک صدی کا قصہ | نعمت امینوف | انصارالدین ابراہمیوف Abid Mir: " !

اس کتاب کے افسانوں/ تحریروں کے کردار بہت متنوع ہیں جو زیرک سائیکالوجسٹ سے لے کر چالاک کباڑیے تک، کھانے میں تھوک دینے والے چائینیز شیف سے لے کر چیونٹی سے انسان پھر عفریت کا میٹامارف تک

The Implementation Of Jointly Administrative Markets Will Serve As Catalysts For Economic Integration

انعام ندیم

ملکی سطح پر صوبوں کی صورت میں اور صوبوں کے اندر مذہبی اور ریاستی آلہ کارو کی صورت میں اس بالادست طبقے کی مفادات اور ریاستی مرکزی طاقت کو برقرار رکھنے کیلئے کوشاں ہے لیکن ایک مخصوص طبقہ جو قومی مفادات اور محکوم طبقات کے حق میں اس مرکزی طاقت اور دولت کو مرکز سے لیکر صوبوں اور صوبائی سطح پر اس دولت اور طاقت کو علاقوں تک عوام میں تحلیل کرنے کیلئے جدوجہد کرتے رہے ہیں،مطلب یہاں بھی واضح طور اقلیت کی بالادستی اور اکثریت کی محکومیت کا تصادم مختلف صورتوں میں جاری ہے اور اس لڑائی میں مرکزی طاقت کو تحلیل کرنے میں جو بھی سامنے آتا ہے وہ اپنے وقت کا سب بڑا ترقی پسند اور انسان دوست تصور کیا جاتا ہے

طارق اسماعیل احمدائی آپنی کتاب ”سرائیکا لوجی وچ سرائیکی وسیب دے اندر رائج قدیم تھراپی دے طریقیں (صلوۃ نے برے) نے تحقیق کرن دے علاوہ ثقافتی انتھروپولوجی دے ہئے پہلوئیں تے وی کم کیتے ۔ جیندے وچ سنوٹ تے سرائیکی اساطیر شامل ہن ۔ ثقافت دا درست مطالعہ اوندے اندروں کیتا ونج سہکدے۔ طارق صاحب ایہہ گالھ جنگی طرح سمجھدن جو متشرقیت مغربی استعمار دا منصوبہ ہا۔ مغربی استعمار دے خاتمے دے بعد مشرق دا مطالعہ مشرقی محققین دے ہتھوں تھیون لگے ۔ جیڑ ھے آمینی ثقافت کوں اوندے اندروں سمجھدے پین ۔ تے ہن مشرق دا مطالعہ وی Localize تھی گئے ۔ ایس پاروں بہوں سارے نویں ڈسپلن سامنے آئین ۔ جینویں انڈالوجی، ایمیٹالوجی، اسریالوجی تے سندھیالوجی وغیرہ ۔ ایہہ آپنی سرزمین دا معروضی تے اکیڈیمک مطالعہ ہوون دے علاوہ کہیں وی تعصب کنوں پاک ہن ۔ طارق صاحب دی کتاب ”سرائیکا لوجی“ اس سلسلے دی پک کڑی اے۔ جیڑھی مغربی استعمار دے خاتمے دے پچھوں سرائیکی کلچر کوں اوندے اندروں آپٹی اکھ نال ویکھن دی کوشش ہے۔ میں طارق صاحب لیوں سراپا تعریف ہاں۔ کیونکہ اوسرائیکی دے انجھے لکھاری ہن جید ھے مابعد نو آبادیاتی فکرکنوں انہوں کو سندن ۔

بچپن ، جوانی ، صدارت

میری یادوں کے چراغ

پیغمبر  انقلاب

کتابستان کا آج کا موضوع گیبریل کے قلم سے نکلی ہوئی ایک مختصر کہانی ہے جس کا عنوان ہے Of love and other demons۔ اس کہانی کا اردو میں ترجمہ ضیاء الحق صاحب نے “محبتوں کے آسیب” کے عنوان کے تحت کیا ہے۔ یہ ایک بارہ سالہ لڑکی سائیوا ماریہ کی زندگی کی کہانی ہے جو اس وقت شروع ہوتی ہے جب ایک آوارہ اور پاگل کتا اس لڑکی کو کاٹ جاتا ہے۔ یہ لڑکی اپنی ماں اور باپ دونوں کی عدم توجہی کا شکار تھی، اس کا بچپن افریقی غلاموں کی سنگت میں گزرا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ کئی افریقی زبانوں سے واقفیت رکھتی تھی، اس کے انداز، طور طریقے سب افریقی غلاموں کی سنگت کے سبب انہی کے جیسے تھے۔ سائیوا ماریہ کی خاص بات اسکے بےانتہا لمبے اور سنہری بال تھے جو اس کے قدموں تک آتے تھے۔ کتے کے کاٹنے کے واقعے کے بعد سائیوا ماریہ کو پاگل پن کے خطرے سے بچنے کے لئے علاج کے تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑا۔ تاہم معالج کسی قسم کے نتیجے پہ نہ پہنچ سکے بالآخر یہ خیال کیا گیا کہ وہ آسیب زدہ ہے۔ افریقی زبان سے واقفیت، غیر معمولی طاقت اور غلاموں جیسے انداز و اطوار نے اسے آسیب زدہ سمجھنے میں مزید کردار ادا کیا اور اسے کلیسا کے حوالے کر دیا گیا۔ ایک عیسائی پادری ڈیلدارا اس کے علاج پہ معمور ہوا تاکہ جھاڑ پھونک کے عمل سے اس کے جسم میں چھپے شیطان پہ قابو پایا جا سکے۔ لیکن پادری، سائیوا ماریہ کے عشق میں گرفتار ہوگیا۔ اس عشق کا کیا نتیجہ نکلا، یہ جاننے کے لئے تو ناول ہی پڑھنا پڑے گا۔

حنفی صاحب نے کتاب زیر بحث میں شاعرانہ کلام میں کہا ہے کہ صوفی ازم کا محور محبت ، شفقت اور اجتماعیت ہے جو مختلف عقائد کے لوگوں کیلئے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ صوفی ازم زندگی کی پائیدار روایات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ یہ نہ صرف الفاظ و مفروضوں سے بڑھ کر بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کیلئے بھی ذہانت اور منفرد وضاحت کو پیش کرتا ہے۔

وہ کبھی کبھار واپس آتے ہیں، اپنی اولاد کا ہاتھ تھامے، ان رنگ برنگے دوروں پر جو ان لوگوں کے لیے تشکیل دیئے جاتے ہیں جو ان کے والدین کے پاگل پن کا شکار ہوئے۔وہ کوئی گھر، گلی یا درخت ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں جو قدرتی طور پر اپنے تنے سے مڑا ہوا ہو۔ میں نے ابھی ابھی فرانسیسی سیاحوں کا ایک گروہ دیکھاجو ائیرپورٹ پر ایک تمباکو کی دوکان پر کھڑا تھا۔ کسی ہوشمند، گُنگے تماشائی کی طرح انہوں نے ہمیں دیکھا۔۔۔ہم عربی۔۔۔ خاموشی سے جیسا کہ ہم کچھ بھی نہ تھے لیکن صرف پتھر یا مردہ درخت تھے۔ تاہم اب یہ سب ختم ہو چکا ہے۔ یہی سب کچھ ان کی خاموشی نے کہا۔

The Tunnelby Ernesto Sabato سُرنگ ناول

Easy Shipping

Quick Dispatch:

Your ایک صدی کا قصہ | نعمت امینوف | انصارالدین ابراہمیوف Abid Mir orders ship within 1-2 business days.

Delivery Options:

  • Standard: 3-7 business days
  • Fast: 2-3 business days
  • Express: 1-2 business days

Order Tracking:

You'll receive a tracking link by email once your ایک صدی کا قصہ | نعمت امینوف | انصارالدین ابراہمیوف Abid Mir ships.

Need Help?
Questions about ایک صدی کا قصہ | نعمت امینوف | انصارالدین ابراہمیوف Abid Mir, sizing, or delivery? We're just an email away.

Live Shipping Estimates:
Enter your location at checkout to see available shipping methods and costs for ایک صدی کا قصہ | نعمت امینوف | انصارالدین ابراہمیوف Abid Mir in your area.

Get Shipping Estimates

You may also like

recommand products

{{{showcase_5_name}}}

US$ {{{showcase_5_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_5_star}}} ({{{showcase_5_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_6_name}}}

US$ {{{showcase_6_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_6_star}}} ({{{showcase_6_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_7_name}}}

US$ {{{showcase_7_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_7_star}}} ({{{showcase_7_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_8_name}}}

US$ {{{showcase_8_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_8_star}}} ({{{showcase_8_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_9_name}}}

US$ {{{showcase_9_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_9_star}}} ({{{showcase_9_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_10_name}}}

US$ {{{showcase_10_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_10_star}}} ({{{showcase_10_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>