Basic of Research For Media And Communications | Dr Haseeb Ur Rehman Safdar Nawaid ZaidiEffective communication is an essential part of our daily lives, whether we are communicating with our friends, colleagues, or even strangers. It is a process that enables us to exchange information, ideas, and thoughts with others. In the context of mass communication, the significance of effective communication increases manifold. Mass communication has become an integral part of our lives, and it is impossible to imagine a world without it. From
( سابق چیف آف سٹاف ڈائریکٹریٹ جنرل آئی ایس آئی)
جس طرح افغانستان پر روسی حملے کے بعد امریکہ نے جنرل ضیاء کو گلے لگایا تھا بالکل اسی طرح جب 11 ستمبر کو امریکہ پر دہشت گردی کی گئی تو جنرل مشرف کو امریکہ نے حریف کی بجائے ایک حلیف کا درجہ دے دیا۔ حملہ کے بعد اُسی شب امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے جنرل مشرف کو ٹیلیفون کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے پاس ایک ہی راستہ ہے۔ تمہیں یا تو امریکہ کا ساتھ دینا ہے یا اپنے آپ کو امریکہ کا مخالف کہلواتا ہے۔ جنرل نے فوری اور غیر مشروط طور پر امریکہ کا حلیف بنے کو ترجیح دی اور وعدہ کیا کہ وہ طالبان کی کسی صورت میں بھی مدد کرنے سے احتراز برتے گا۔ ضیاء اور مشرف میں بہت سی باتیں مشترک تھیں۔ دونوں پیدائشی طور پر ہندوستانی تھے اور ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔ دونوں نے بین الاقوامی حالات میں زیر و بم کی روشنی میں مشکلات سے نجات حاصل کی تھی۔ دونوں نے اپنی حکومت کو جائز قرار دینے کے لئے ریفرنڈم کرائے اور دونوں نے مذہبی سیاسی جماعتوں یعنی جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کو دیگر دوسری اہم سیاسی پارٹیوں کو کھڈے لائن لگانے کے لئے استعمال کیا۔
"زماں کا پہیہ مکاں کی خلاٶں میں گھومتا ھے۔ وہ سبھی چیزیں جنہیں حواس خمسہ محسوس کر سکتے ھیں زماں کے محیط پر قاٸم ھیں حواس خمسہ ایسی کسی بھی چیز کو محسوس کرنے کے ناقابل ہیں جو زماں اور مکاں کے کسی مخصوص نقطہ پر معدوم ھوتی رہتی ھے۔
اوریانا فلاشی
ISBN 978627301708
روس کے اس عظیم ادیب کامکمل نام ”کاﺅنٹ لیو نکولائی وچ ٹالسٹائی “ ہے۔وہ 1828ءمیں روسی صوبہ تولا میں یاسنایاپولیاناکے مقام پرایک جاگیردار گھرانے میں پیداہوئے۔ان کے خاندان کو نوابانہ مرتبہ زار پیٹر اعظم نے عطا کیا تھا۔ٹالسٹائی نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی اوربعدازاں ماسکو اور قازان کی یونیورسٹیوں سے قانون اور مشرقی زبانوں پر عبور حاصل کیا۔حصول تعلیم کے بعد وہ اپنی جاگیر یاسنایا پولیانا پر واپس آگئے اور1851ءمیں قفقاز کی فوج میں بھرتی ہونے تک وہیں مقیم رہے۔ قفقاز میں انہوں نے روس کے معاشرتی ڈھانچے کے مسائل کامشاہدہ کرنا شروع کیااور ایک سال بعد ”بچپن ، لڑکپن اورجوانی “ کے عنوان سے اپنی سہ رخی سوانح عمری لکھی۔ انہوںنے کریمیا کی معروف جنگ میں بھی حصہ لیا تاہم سیوستاپول کی شکست کے بعد فوج سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ فوجی ملازمت چھوڑنے کے بعد وہ کئی برس تک سینٹ پیٹرز برگ میں مقیم رہے اور1862ءمیں یاسنایا واپس آکرسوفی آندریا نامی خاتون سے شادی کرلی۔دونوں کی شادی کامیاب رہی اور ابتدائی پندرہ برسوں میں ان کے ہاں تیرہ بچے پیدا ہوئے۔
ان کرداروں اور تحریروں میں مکالمہ ہے کھوج ہے تلاش ہے تشنگی ہے اور اس تشنگی کو مٹاتے بڑے پرسکون آفاقی سمندر کی علامت بھی
”نوہزار نو سو ننانوے محلات پر مشتمل اس عمارت میں جو چیز بطور سیمنٹ استعمال ہوئی وہ لیس دار چاول اور انڈے کی سفیدی سے بنائی گئی تھی“۔
infect a part of the post- War 11 convulsions that overtook the human world globally
مذہب کا تجربہ انسان نے ہزاروں سال کیا لیکن کوئی آسمانی مدد اسے نہ پُہنچی ۔
Afsano ky hawaly sy
All Must Have This Excellent Handbook Be They Are Students