URAAN By Prof. Muhammad Yaseen Qasim Ali ShahURAAN By Prof. Muhammad Yaseen
"This Book Is An Investigation Into The Ethics And Politics Of Global Poverty
a series of increasingly disturbing events unfolds: secret meetings
بہاولپور گزیٹیر | Bhawalpur gazetteer
محترم حسین شاہد کے پنجابی ناول ڈراکل کے اُردو تر جے ڈرپوک سے دیگر قومی زبانوں کے قارئین بھی مستفید ہو سکیں گے۔ دوسری طرف پنجاب کے وہ اُردو لکھاری جو اپنی مادری زبان پڑھنے سے قاصر ہیں انھیں بھی پنجابی فکشن پڑھنے کی سہولیت میسر ہو جائے گی۔ محترم شاہد حسین شاہد پنجابی کے قدآور ادیب ہیں۔ اُن کی کتابوں میں لا پریت ( کہانیاں ) پورنے (تنقید) ، ڈراکل (ناول)، عشق تے روٹی (شاعری) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے کچھ اُردو کتا بیں بھی لکھی ہیں۔ وہ چالیس پینتالیس سال تک بالینڈ میں مقیم رہے، وہ کہا کرتے تھے کہ وطن عزیز میں رہنے کے لیے جو خاص قسم کی قابلیت درکار ہے اُس سے وہ محروم ہیں۔ اس کے باوجود انھوں نے پنجابی زبان سے اپنا رشتہ جوڑے رکھا۔
This exquisite tour of the form as practiced at its highest level will leap directly into the hearts of readers of all ages
" Annie Proulx's "Brokeback Mountain
Urdu Translation of " Why Marx Was Right " By Terry Eagleton
میں نے اپنے ماضی میں گہرائی سے جھانکا، یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ میں اپنے ساتھ وقت گزارنے کے خیال سے کیوں نفرت کرتا تھا اور کیوں میں دوست بنانے کی کوشش کرتا تھا جب کہ مجھے کبھی بڑے گروپ کی ضرورت نہیں تھی۔ میں ایک انٹر وورٹ ہوں، اور مجھے صرف چند لوگ اپنے ارد گر د ر کھنا پسند ہے۔ وہ لوگ جو میرے دل کے قریب ہوں۔ مجھے ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا پسند نہیں جو دوست کہلاتے ہوں، لیکن جن کے بارے میں میں ان کی غیر موجودگی میں برا بولوں۔ ( ڈاکٹر ویویک )
Urdu Translation of " Literary Theory: An Introduction " By Terry Eagleton
Loneliness Was My Cage Renuka Gavrani
اس مرشد کی داستان جس نے تاریخ کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت کی بنیادیں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا
یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ کس طرح زمین کی ساخت، پہاڑ، دریا، سمندر، اور سرحدی تقسیم قوموں کی تقدیر کا تعین کرتے ہیں۔ اگر ہم عالمی طاقتوں کے عروج و زوال کی داستان کو دیکھیں، تو ہمیں واضح نظر آتا ہے کہ قدرتی وسائل، جغرافیائی محلِ وقوع اور جغرافیائی چیلنجز ہمیشہ سے ریاستوں کے فیصلوں میں ایک اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ اس کتاب کا ترجمہ کرتے ہوئے، میں نے پایا کہ مصنف نے ہر ملک یا خطے کا تجزیہ محض سیاسی یا تاریخی نہیں، بلکہ ایک جغرافیائی پس منظر میں کیا ہے، جو عام قاری کے لیے ایک بالکل نیا زاویہ فراہم کرتا ہے۔