Role Of Judiciary In Pakistan | Dr Abdul Basit Khan Paul Findley

Regular price $ 500.00
Tax included. Shipping calculated at checkout.
Description

Role Of Judiciary In Pakistan | Dr Abdul Basit Khan Paul FindleyThe role of the Pakistani judiciary in the constitutional and political development of the country between 1954 and 2000 was marked by a controversial inclination to legitimize executive and military overreach through the application of the "doctrine of necessity," which significantly weakened democratic institutions and paved the way for repeated constitutional crises. Role Of Judiciary In The Constitutional and Political Development Of Pakistan A

مصنف نے اس کتاب میں جدید لاہور کے حوالے سے مکمل راہنمائی مہیا کی ہے چھوٹے بڑے ، معروف خواہ غیر معروف تمام تریخی و مذہبی مقامات کے ساتھ ساتھ جدید پارکس ، شاپنگ مالز ، کلب اور رہائشی ہوٹلوں کی مکمل تفصیل مع رابطہ نمبرز درج کر کے ان مقامات تک پہنچنے اور لاہور کے دیگر علاقوں تک سفر کرنے کے لئے لوکل ٹرانسپورٹ کا تفصیلی خلاصہ لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔

مصنف: سید سجاد ظہیر

Nayar’s account is also the story of India

39 بڑے آدمی | Biographical Round-up | Dale Carnegie | ڈیل کارنیگی

ایلیڈ قدیم یونانی شاعر ہومر کی ایک نظم ہے ، جس میں ٹروجن جنگ کے آخری ہفتوں اور ٹرائے شہر کے یونانی محاصرے کے کچھ اہم واقعات بیان ہوئے ہیں۔ آٹھویں صدی قبل مسیح کے وسط میں لکھا گیا، "ایلیڈ" عام طور پر پوری مغربی ادبی روایت کا ابتدائی کام سمجھا جاتا ہے ، اور اب تک کی سب سے مشہور اور پیاری کہانیوں میں سے ایک ہے۔

in Profiles of Intelligence unveils some of the counter-intelligence operations undertaken by the Directorate General Inter Services Intelligence

ایم اے کے بعد شمس الرحمن فاروقی تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئے مگرساتھ ہی مقابلے کے امتحان کی تیاری بھی کرتے رہے۔ 1957ء میں انہوں نے یہ امتحان پاس کیا اور انہیں پوسٹل سروس کے لئے منتخب کرلیا گیا۔ اس کے بعد ان کی پوسٹنگ ہندوستان کے مختلف شہروں میں ہوتی رہی اور انہیں بیرون ملک سفر کے بھی بہت مواقع میسر آئے۔

مگر بہت بار تخلیق اور کردار گویا خود سے متحرک وجود بن کر قاری سے مکالمہ کرتے ہیں اور یقینا قاری کو سوچنے، جوابا کچھ کہنے یا اپنے تاثرات لکھنے پر بھی اکساتے ہیں

وہ پانچواں پہاڑ

and proposal writing

گذشتہ روز قومی محاذِ آذادی کے سینیئر رہنما مصدق حسین اسد کی کتاب "مصلحتوں کے مارے لوگ" کی تقریبِ رونمائی تھی۔ جس کی صدارت بائیں بازو کے نامور دانشور اور شاعر اسلم گورداسپوری نے کی۔ مہمانِ خصوصی ممتاز قانون دان حامد خاں ایڈووکیٹ اور راقم تھے۔ کاسمپولیٹین کلب کا ہال بائیں بازو کے دوستوں سے بھرا ہوا تھا۔ کتاب میں صاحبِ کتاب نے اپنی جد و جہد اور ملکی صورتحال پر کھل کر اظہار کیا ہے۔ ان کا طرزِ اسلوب سادہ مگر متاثر کن ہے۔ وہ جو بات کہنا چاہتے تھے انہوں نے بڑی سہولت سے بیان کر دی۔ ایک عام گھرانے کا فرد سیاست کے میدان میں کن مشکلات کا سامنا کرتا ہے اور اس کے لیے کیا مسائل ہے وہ مصدق حسین اسد سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے انہوں نے سیاسی رہنماؤں خاص کر بائیں بازو کی لیڈرشپ اور ورکروں کو موقعہ پرستی اور مصلحت کا شکار ہونے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ ملکی سیاسی نظام اور لوگوں کی ابتر سماجی زندگی پر نوحہ کناں ہیں۔ صحافت سے لے کر عدلیہ تک کوئی شعبہ ایسا نہیں جس پر انہوں پر اپنی رائے نہ دی ہو ۔ ججوں کے سمجھوتے صحافیوں کی بد دیانتی وہ کھل کر سامنے لائے ہیں۔ عام شہریوں کو تعلیم ، انصاف ، خوراک اور علاج معالجے کی سہولتوں میں جن مصائب کا سامنا ہے وہ اسے بڑی درد مندی سے بیان کرتے ہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جو غیر ملکی قرضہ ہم لیتے ہیں وہ کہاں جاتا ہے؟ یہ ساری باتیں ایک محب وطن پاکستانی ہی کر سکتا ہے۔ جو غریبوں کا دکھ سمجھتا ہے۔ انہیں گلہ ہے کہ ان کے نظریاتی ساتھی مصلحتوں کا شکار ہوئے اور انہیں این جی اوز نگل گئیں۔ ان سے کچھ باتوں پر اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ مکالمے کے آدمی ہیں۔ مثلا" میں سمجھتا ہوں جب مخصوص نظریات رکھنے والے لوگوں پر زندگی تنگ کر دی جائے ان پر ملازمتوں کے دروازے بند ہوں تو وہ کہاں جائیں ؟ ۔ زندہ رہنے کے لیے کچھ تو کرنا پڑے گا نا۔ اسی لیے بہت سے نظریاتی لوگ روزی روٹی کمانے کے لیے ملک سے باہر جا مقیم ہوئے۔ کچھ نے این جی اوز بنا لیں۔ ہاں مجھے اعتراض ہے ایسے لوگوں پر جنہوں نے اپنے نظریات تبدیل کر لیے یا غیر ملکی فنڈنگ پر یورپ اور امریکہ کی سرمایادارانہ پالیسیوں کے حامی بن گئے۔ یہ تقریب بہت اہمیت کی حامل تھی۔

تاریخی خطوط | Nazir Leghari

Easy Shipping

Quick Dispatch:

Your Role Of Judiciary In Pakistan | Dr Abdul Basit Khan Paul Findley orders ship within 1-2 business days.

Delivery Options:

  • Standard: 3-7 business days
  • Fast: 2-3 business days
  • Express: 1-2 business days

Order Tracking:

You'll receive a tracking link by email once your Role Of Judiciary In Pakistan | Dr Abdul Basit Khan Paul Findley ships.

Need Help?
Questions about Role Of Judiciary In Pakistan | Dr Abdul Basit Khan Paul Findley, sizing, or delivery? We're just an email away.

Live Shipping Estimates:
Enter your location at checkout to see available shipping methods and costs for Role Of Judiciary In Pakistan | Dr Abdul Basit Khan Paul Findley in your area.

Get Shipping Estimates

You may also like

recommand products

{{{showcase_5_name}}}

US$ {{{showcase_5_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_5_star}}} ({{{showcase_5_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_6_name}}}

US$ {{{showcase_6_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_6_star}}} ({{{showcase_6_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_7_name}}}

US$ {{{showcase_7_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_7_star}}} ({{{showcase_7_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_8_name}}}

US$ {{{showcase_8_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_8_star}}} ({{{showcase_8_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_9_name}}}

US$ {{{showcase_9_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_9_star}}} ({{{showcase_9_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_10_name}}}

US$ {{{showcase_10_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_10_star}}} ({{{showcase_10_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>