آزار گاہ | افسانے | فاطمہ عثمان Awais Sajjad

Regular price $ 150.00
Tax included. Shipping calculated at checkout.
Description

آزار گاہ | افسانے | فاطمہ عثمان Awais Sajjad:

یاسررضاآصف

"سامراج اور جاگیرداری" کے بعد پروفیسر حمزہ علوی کے مضامین کا یہ دوسرا مجموعہ ہے جس میں پاکستان کے بارے میں مضامین ہیں۔ حمزہ علوی کی تحقیق کا دائرہ بڑا وسیع ہے۔ اس میں سوشیولوجی، علم بشریات ، سیاسیات اور تاریخ سب آ جاتے ہیں۔ چونکہ ان علوم پر ان کی مضبوط گرفت ہے۔ اس لیے جب وہ کسی موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں تو اس کے تمام پہلووں کا احاطہ کرتے ہوئے وجوہات و اسباب کی تہہ تک جا کر اس کا تجزیہ کرتے ہیں۔

«خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز»

صفحات ۱۵۱

The Story of My Experiments with Truth Book by Mahatma Gandhi

کی تقسیم پر قانع نظر آتا ہوں اور وہ غریب اس لطف سے بھی محروم ہیں۔

ستر اور اسی کی دہائی تک پہنچتے پہنچتے اردو افسانہ رومانویت، سماجی حقیقت نگاری، ترقی پسندی اور جدیدیت سے گزرتے ہوئے ما بعد جدید دور میں داخل ہو چکا تھا۔ اکیسویں صدی کی دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے ہی اس میں محیت ، اسلوب اور موضوع کی سطح پر واضح تبدیلیاں رونما ہو چکی تھیں ۔ مابعد جدید عہد کوئی تحریک ، رجحان یار دعمل نہیں بلکہ ایک کشادہ دہنی رویہ ہے ۔ یہ رویہ ثقافتی رجحانات پر زیادہ زور دیتا ہے جس کی تہہ میں تخلیق کی آزادی اور معنی پر بٹھائے گئے پہروں سے نجات کا رجحان مضمر ہے۔ ان دینی رویوں نے نئی ثقافتی اور تاریخی صورت حال کے بطن سے جنم لیا ہے جو جدیدیت سے مختلف تو ضرور ہے لیکن اس کی ضد نہیں ہے۔ مابعد جدیدیت ، بیگانگی شکست ذات عدم شناخت، حد درجہ داخلیت اور غیر ضروری ہیئت پرستی سے انحراف کرتی ہے۔ مابعد جدیدیت نے افسانے کے کرداروں کو ان کے چہرے واپس کیے ہیں۔ ان کے ہاتھوں اور پیروں کو زنجیروں سے آزاد کیا ہے، انھیں آزاد فضا میں حرکت کرنے کا موقع فراہم کیا ہے، ان کے ثقافتی تشخص کو بحال کیا ہے۔ معاصر عبد میں کئی ایسی آواز میں ابھری ہیں جو مابعد جدیدیت کے حوالے سے بہت اہم ہیں ۔ ان میں ایسی آواز میں بھی شامل ہیں جنھوں نے جدیدیت کے دور میں افسانہ تخلیق کرنا شروع کیا لیکن اس سے زیادہ اثرات قبول نہیں کیے۔ جلد ہی انھیں احساس ہو گیا کہ جدیدیت پر مبنی افسانوں کا مستقبل روشن نہیں تو انھوں نے افسانوی سمت تبدیل کر لی اور کہانی کے جوہر سے رجوع کر لیا۔ علامت اور استعاریت کو نئی معنویت سے ہم کنار کیا۔ اس نوع کے افسانہ نگاروں کی فہرست طویل ہے جس میں سے ان پانچ آوازوں کو منتخب کیا گیا ہے جو تقسیم ہند (۱۹۴۷ء) سے ذرا پہلے اور بعد تک اُردو افسانے کے پہلے جنم کے پالن ہاروں یلدرم، پریم چند، منٹو، بیدی، کرشن چندر، عصمت چغتائی، غلام عباس، انتظار حسین ، قرۃ العین حیدر کے بعد اُردو افسانے کے دوسرے جنم کے پالن ہاروں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہ پانچ آوازیں اُردو افسانے کا رُخ حقیقت نگاری سے علامت نگاری کی طرف اور پھر علامت نگاری سے حقیقت نگاری کی طرف موڑنے کے حوالے سے بھی نمائندہ سمجھی جاسکتی ہیں۔ ان کے افسانوں میں جدید اور مابعد جدید دونوں زمانوں کی فکری بازگشت سنائی دیتی ہے۔ اس انتخاب اور ترتیب و تزئین میں یقینا کچھ کمی محسوس ہو سکتی ہے لیکن اُردو افسانے کے دوسرے جنم کی ان گواہیوں کا اس نوع کا انتخاب اس سے پہلے کہیں کتابی صورت میں دستیاب نہ تھا سوبطور خاص افسانے میں دلچسپی رکھنے والے قارئین ، ناقدین اور طلبا کے لیے یہ سعی کی گئی ہے۔

گزشتہ دنوں ظہور خان صاحب کی محبتوں اور نوازشوں کی برکھا برسی جس میں ڈاکٹر فوزیہ رانی کا یہ تحقیقی شاہکار "پاکستانی خواتین کے افسانوں میں نسوانی کردار" بھی شامل تھا۔اس اعلی کتاب میں ساٹھ خواتین کہانی کاروں کی کہانیوں کے مجموعوں کو انھوں نے اپنی تحقیق کا حصہ بنایا۔جس میں انھوں نے ان افسانوں میں بالخصوص نسوانی کرداروں کو اپنی علمی بصیرت تنقیدی صلاحیت اورتحقیقی مزاج سے اختصاری انداز میں نہایت جامعیت کے ساتھ جانچا پرکھا اور سمجھایا و سجھایا ھے ۔ہمارے نزدیک اردو ادب کے استادوں اور طلبہ وطالبات سب کے کے لئے یکساں مفید ومعاون ھے۔

ڈاکٹر بوک کہتے ہیں ’جی پی ایس اور دیگر سینسرز ے حاصل ہونے والے ڈیٹا یکجا کر کے ہم زلزلے اور دوسرے واقعات کے دوران سرکاؤ کی پیمائش کر سکتے ہیں۔‘انہوں نے بتایا کہ یہ نظام کسی بڑے زلزلے سے پہلے آنے والے جھٹکوں کی نشاندہی کر سکتا ہے اور اس کی شدت کا صحیح اندازہ لگانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا سکتا ہے کہ آیا اس کے نتیجے میں سونامی کا خطرہ ہے یا نہیں۔ جی پی ایس سینسرز اور موسمیاتی آلات ماہرین کو ہوا میں نمی کے تناسب کی جانچ میں بھی مدد دیتے ہیں۔ ناسا کی جیٹ پرپلژن لیبارٹری کی ڈاکٹر اینجلین مورے کا کہنا ہے کہ ’یہ شاید حیران کن ہو کہ ہم موسمیاتی خطرات کی جانچنے کے لیے جی پی ایس استعمال کر رہے ہیں لیکن جی پی ایس ایک موسمیاتی آلہ ہی ہے۔‘ ایک تجربے کے دوران اس نظام کی مدد سے اچانک آنے والے سیلابوں کی بروقت اطلاع میں مدد ملی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی سستی ہے اور یہ نظام پوری دنیا میں پھیلایا جا سکتا ہے

ناول "اور ڈان بہتا رہا"

وہ ایک مذہبی سکالر بھی تھے۔کسی زمانے میں انہوں نے مذہب کے بہت سے موضوعات پر کتابیں بھی لکھیں۔

صفحات 334

Easy Shipping

Quick Dispatch:

Your آزار گاہ | افسانے | فاطمہ عثمان Awais Sajjad orders ship within 1-2 business days.

Delivery Options:

  • Standard: 3-7 business days
  • Fast: 2-3 business days
  • Express: 1-2 business days

Order Tracking:

You'll receive a tracking link by email once your آزار گاہ | افسانے | فاطمہ عثمان Awais Sajjad ships.

Need Help?
Questions about آزار گاہ | افسانے | فاطمہ عثمان Awais Sajjad, sizing, or delivery? We're just an email away.

Live Shipping Estimates:
Enter your location at checkout to see available shipping methods and costs for آزار گاہ | افسانے | فاطمہ عثمان Awais Sajjad in your area.

Get Shipping Estimates

You may also like

recommand products

{{{showcase_5_name}}}

US$ {{{showcase_5_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_5_star}}} ({{{showcase_5_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_6_name}}}

US$ {{{showcase_6_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_6_star}}} ({{{showcase_6_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_7_name}}}

US$ {{{showcase_7_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_7_star}}} ({{{showcase_7_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_8_name}}}

US$ {{{showcase_8_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_8_star}}} ({{{showcase_8_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_9_name}}}

US$ {{{showcase_9_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_9_star}}} ({{{showcase_9_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_10_name}}}

US$ {{{showcase_10_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_10_star}}} ({{{showcase_10_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>